23 ستمبر، 2026، 3:47 PM

امریکہ مذاکرات کے لئے مسلسل ثالثی ممالک کی طرف رجوع کررہا ہے، ایرانی نائب صدر

امریکہ مذاکرات کے لئے مسلسل ثالثی ممالک کی طرف رجوع کررہا ہے، ایرانی نائب صدر

ایرانی سینئر نائب صدر نے کہا کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کے لیے مختلف ذرائع اور طریقے استعمال کرتے ہوئے مختلف ممالک کو ثالث بنانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے سینئیر نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کے لیے ہر ذریعہ اور طریقہ استعمال کر رہا ہے، حتیٰ کہ اس کا صدر ایک افریقی ملک کے پانچویں درجے کے عہدیدار سے براہ راست رابطہ کرکے اسے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ثالث بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

رضا عارف نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ملک کے تمام طلبہ اور تعلیمی عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ایک قومی جشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ملک کی کامیابیاں ایران میں ہونے والی جدوجہد، کوششوں اور علمی سرگرمیوں کی مرہون منت ہیں اور ملک کی کامیابیوں کے حصول میں تعلیم اور تربیت نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ طلباء بھی نئے تعلیمی سال کا آغاز مستقبل کے حوالے سے امید اور علم و دانش کی بلند چوٹیوں کو فتح کرنے کے عزم کے ساتھ کریں گے۔

سینئر نائب صدر نے کہا کہ گزشتہ سال دو جنگوں اور ایک نیم فوجی بغاوت کے باوجود تعلیم، ترقی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حکومت کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ اس راستے میں بہت سے مسائل موجود ہیں، تاہم صدر اور حکومت کی پالیسی تعلیم و تربیت کے شعبے کے مسائل حل کرنا ہے۔

انہوں نے مذاکرات کے لئے امریکی بے تابی کو ایران کی عظمت اور اقتدار کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ ہم حق کے محاذ پر ہیں اور اتحاد و یکجہتی کے ساتھ یہ محاذ کامیاب ہوگا۔

عارف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے صدر کے نیویارک کے دورے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر بھرپور تیاری اور مضبوط موقف کے ساتھ نیویارک روانہ ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی ایران کا موقف مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان دنیا کے سامنے ایران کی اقتدار اور ترقی کا ثبوت پیش کریں گے اور دشمن کے سخت رویے اور ظالمانہ پابندیوں کا جواب دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی، کیونکہ یہ ادارے عالمی طاقتوں کے زیر اثر ہیں اور دوہرے معیارات رکھتے ہیں۔ اگر لاکھوں مسلمان شہید ہوجائیں تو ان اداروں کی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھتی، لیکن اگر کسی مغربی انسان کی معمولی بے حرمتی بھی ہوجائے تو انسانی حقوق اور آزادی کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔

ایرانی نائب صدر نے کہا کہ اس کے باوجود دنیا میں اب بھی ایسے آزاد لوگ موجود ہیں جنہوں نے خود کو مغربی تہذیب کے جنگل کے قوانین کے مطابق ڈھالا نہیں ہے۔ ایران ان لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے نظام کے مقابلے میں پانچ دہائیوں پر محیط اپنی اقتدار اور مزاحمت کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔

News ID 1941603

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha